کیا ایک نوجوان واقعی خدا بن سکتا ہے؟ دن 1: ایک نوجوان استاجی کے طور پر، وہ کائنات کی تخلیق کی راہ پر گامزن ہے۔ خالی دنیا میں، وہ ایک سادہ گدلا پتھر کے ساتھ شروع کرتا ہے۔ جیسے ہی وہ دعا کرتا ہے، پتھر چمکنے لگتا ہے۔ دن 3: نئے ستارے چمک اٹھتے ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے، مگر پھر بھی الجھن میں ہے۔ دن 5: ایک نئی زمین بنتی ہے، پھول کھلتے ہیں، پرندے اڑتے ہیں۔ دن 7: اسے معلوم ہوتا ہے: سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کی طاقت نازک ہے۔ کیا وہ واقعی اس کی ذمہ داری سنبھال پائے گا؟ ختم ہوتے ہی! اس نے ایک کائنات بنائی، پر اس میں دل بھی تو ہونا چاہیے!